Monday, May 4, 2009

تیسری مناجات مناجات خائفین

تیسری مناجات مناجات خائفین

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

إِلھِی أَتَراکَ بَعْدَ الْاِیمانِ بِکَ تُعَذِّبُنِی أَمْ بَعْدَ حُبِّی إِیَّاکَ تُبَعِّدُنِی أَمْ مَعَ رَجائِی لِرَحْمَتِکَ

میرے معبود کیا تجھے ایسا سمجھوں کہ تجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود مجھے عذاب دے گا یا تجھ سے محبت کروں تو بھی مجھے دورکرے گایا

وَصَفْحِکَ تَحْرِمُنِی أَمْ مَعَ اسْتِجارَتِی بِعَفْوِکَ تُسْلِمُنِی حَاشَا لِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ أَنْ تُخَیِّبَنِی

تیری رحمت و چشم پوشی کی امید رکھوں تو بھی محروم کرے گا یا تیرے عفو کی پناہ لوں تو بھی مجھے آگ کے سپرد کرے گانہیں تیری ذات

لَیْتَ شِعْرِی أَلِلشَّقاءِ وَلَدَتْنِی أُمِّی أَمْ لِلْعَناءِ رَبَّتْنِی فَلَیْتَہا لَمْ تَلِدْنِی،وَلَمْ تُرَبِّنِی ،وَلَیْتَنِی عَلِمْتُ

کریم ہے بعید ہے کہ مجھے نا امید کرے کاش میں جان سکتا کہ آیا میری ماں نے مجھے بدبختی کے لیے جنا یا دکھ کے لیے پالا کاش وہ مجھے نہ جنتی

أَمِنْ أَھْلِ السَّعادَةِ جَعَلْتَنِی، وَبِقُرْبِکَ وَجِوارِکَ خَصَصْتَنِی، فَتَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی، وَتَطْمَئِنَّ

اور مجھے نہ پالتی اور کاش مجھے یہ علم ہوتا کہ آیاتو نے مجھے نیک بختوں میں قرار دیا اور قرب و نزدیکی کے لیے مجھے خاص کیا ہے تو اس سے میری آنکھیں

لَہُ نَفْسِی۔إِلھِی ھَلْ تُسَوِّدُ وُجُوہاً خَرَّتْ ساجِدَةً لِعَظَمَتِکَ أَوْ تُخْرِسُ أَلْسِنَةً نَطَقَتْ بِالثَّناءِ

روشن اور دل مطمئن ہوجاتا میرے معبود آیا توان چہروں کو سیاہ کردے گا جو تیری عظمت کو سجدے کرتے ہیں یا ان زبانوں کو گنگ کرے گا جو تیری

عَلی مَجْدِکَ وَجَلالَتِکَ أَوْ تَطْبَعُ عَلی قُلُوبٍ انْطَوَتْ عَلی مَحَبَّتِکَ أَوْ تُصِمُّ أَسْماعاً تَلَذَّذَتْ

اونچی شان اور جلالت کی تعریف میں تر ہیں یا ان دلوں پر مہر لگائے گا جو اپنے اندر تیری محبت لیے ہوئے ہیں یا ان کانوں کو بہرا کرے گاجو تیرا ذکر سننے کا

بِسَماعِ ذِکْرِکَ فِی إِرادَتِکَ أَوْ تَغُلُّ أَکُفّاً رَفَعَتْھَا الْآمالُ إِلَیْکَ رَجاءَ رَأْفَتِکَ أَوْ تُعاقِبُ

شرف حاصل کرتے ہیں یاان ہاتھوں کو باندھے گاجن کو تیری رحمت کی امید نے تیرے حضور پھیلایا ہے یا ان بدنوں کو

أَبْداناً عَمِلَتْ بِطاعَتِکَ حَتَّی نَحِلَتْ فِی مُجاھَدَتِکَ أَوْ تُعَذِّبُ أَرْجُلاً سَعَتْ فِی عِبادَتِکَ

عذاب دے گا جنہوں نے تیری اطاعت کی حتیٰ کہ اس کوشش میں لاغر ہوگئے یا ان پاؤں کو عذاب کرے گا جو عبادت

إِلھِی لاَ تُغْلِقْ عَلی مُوَحِّدِیکَ أَبْوابَ رَحْمَتِکَ وَلاَ تَحْجُبْ مُشْتاقِیکَ عَنِ النَّظَرِ إِلی جَمِیلِ

کیلئے دوڑتے ہیں میرے معبود جو تیری توحید کے پرستار ہیں ان پر رحمت کے دروازے بند نہ کر اور جو تیرا شوق دیدار رکھتے ہیں

رُؤْیَتِکَ۔إِلھِی نَفْسٌ أَعْزَزْتَہا بِتَوْحِیدِکَ کَیْفَ تُذِلُّہا بِمَہانَةِ ھِجْرانِکَ وَضَمِیرٌ انْعَقَدَ عَلی

ان کو اپنی تجلیوں پر نظر کرنے سے محروم نہ کرنا میرے معبود جس جان کو تو نے اپنی توحید پر ایمان کی عزت دی کیونکراسے ہجر کی اہانت سے ذلیل کرے گا

مَوَدَّتِکَ کَیْفَ تُحْرِقُہُ بِحَرارَةِ نِیرانِکَ إِلھِی أَجِرْنِی مِنْ أَلِیمِ غَضَبِکَ، وَعَظِیمِ سَخَطِکَ،

اور جس دل میں تیری محبت سمائی ہوئی ہے اسکو اپنی آگ کی تپش میں کسطرح جلائے گا میرے معبود مجھے دردناک غضب اور سخت ناراضی سے بچانا

یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا رَحِیمُ یَا رَحْمانُ، یَا جَبَّارُ یَا قَہَّارُ یَا غَفَّارُ یَا سَتَّارُ، نَجِّنِی بِرَحْمَتِکَ مِنْ

اے محبت والے اے احسان والے اے مہربان اے رحم والے اے زبردست اے غلبے والے اے بخشنے والے اے پردہ پوش مجھے اپنی رحمت سے عذاب

عَذابِ النَّارِ، وَفَضِیحَةِ الْعارِ، إِذا امْتازَ الْاَخْیارُ مِنَ الْاَشْرارِ، وَحَالَتِ الْاَحْوالُ وَھَالَتِ

جہنم سے نجات دے رسوائی پر شرمندگی سے بچا جب نیک لوگ الگہوں گے برے لوگوں سے جب حالات دگرگوں ہوں گے اور خوف و خطر گھیر لیں

الْاَھْوالُ، و قَرُبَ الْمُحْسِنُونَ وَبَعُدَ الْمُسِیئُونَ، وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ ۔

گے اچھے لوگ قریب کیے جائیں گے اور برے لوگ دھتکارے جائیں گے اور ہر نفس نے جو کیا وہ پورا پورا پائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا

دوسری مناجات مناجات شاکین

دوسری مناجات مناجات شاکین

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

إِلھِی إِلَیْکَ أَشْکُو نَفْساً بِالسُّوءِ أَمَّارَةً وَ إِلَی الْخَطِیئَةِ مُبادِرَةً وَبِمَعاصِیکَ مُولَعَةً وَلِسَخَطِکَ

اے معبود میں تجھ سے اپنے نفس کی شکایت کرتا ہوں جو برائی پر اکسانے والا اور خطاکیطرف بڑھنے والا ہے وہ تیری نافرمانی کا

مُتَعَرِّضَةً تَسْلُکُ بِی مَسالِکَ الْمَھَالِکِ وَتَجْعَلُنِی عِنْدَکَ أَھْوَنَ ھَالِکٍ کَثِیرَةَ الْعِلَلِ،طَوِیلَةَ

شائق اور تیری ناراضی سے ٹکر لیتا ہے وہ مجھے تباہی کی راہوں پر لے جاتا ہے اور اس نے مجھے تیرے سامنے ذلیل اور تباہ حال بنادیا ہے یہ بڑا بہانہ ساز

الْاَمَلِ،إِنْ مَسَّھَاالشَّرُّتَجْزَعُ، وَإِنْ مَسَّھَا الْخَیْرُ تَمْنَعُ، مَیَّالَةً إِلَی اللَّعِبِ وَاللَّھْوِ، مَمْلُوئَةً بِالْغَفْلَةِ

اور لمبی امیدوں والا ہے اگر اسے تکلیف ہو تو چلاتا ہے اور اگر آرام پہنچے تو چپ رہتا ہے وہ کھیل تماشے کی طرف زیادہ مائل اورغفلت اور بھول چوک سے بھرا

وَالسَّھْوِ،تُسْرِعُ بِی إِلی الْحَوْبَةِ،وَتُسَوِّفُنِی بِالتَّوْبَةِ الِھِی أَشْکُوإِلَیْکَ عَدُوّاً یُضِلُّنِی،وشَیْطاناً َ

پڑا ہے مجھے تیزی سے گناہ کی طرف لے جاتاہے اور توبہ کرنے میں تاخیرکرتا ہے میرے معبود میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں اس دشمن کی جو گمراہ کرتا ہے

یُغْوِینِی، قَدْ مَلاَءََ بِالْوَسْواسِ صَدْرِی، وَأَحاطَتْ ھَواجِسُہ بِقَلْبِی، یُعاضِدُ لِیَ الْھَویٰ،وَیُزَیِّنُ

اور شیطان کی جو بہکاتا ہے اس نے میرے سینے کو برے خیالوں سے بھردیا اسکی خواہشوں نے میرے دل کو گھیرلیا ہے بری خواہشوں میں مدد کرتا ہے اوردنیا

لِی حُبَّ الدُّنْیا،وَیَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ الطَّاعَةِ وَالزُّلْفیٰ إِلھِی إِلَیْکَ أَشْکُو قَلْباً قاسِیاً مَعَ الْوَسْواسِ

کی محبت کواچھا بنا کر دکھاتا ہے وہ میرے اور تیری بندگی اور قرب کے درمیان حائل ہوگیاہے اے معبود میں تجھ سے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوں اورمسلسل

مُتَقَلِّباً،وَبِالرَّیْنِ وَالطَّبْعِ مُتَلَبِّساً،وَعَیْناً عَنِ الْبُکاءِ مِنْ خَوْفِکَ جامِدَةً،وَإِلی ما یَسُرُّہا طامِحَةً۔

وسواسوں شکایت کرتا ہوں جورنگ و تیرگی سے آلودہ ہے اس آنکھ کی شکایت کرتا ہوں جو تیرے خوف میں گریہ نہیں کرتی اور جو

إِلھِی لاَ حَوْلَ لِی وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِقُدْرَتِکَ، وَلاَ نَجاةَ لِی مِنْ مَکارِھِ الدُّنْیا إِلاَّ بِعِصْمَتِکَ،

چیز اچھی لگے اس سے خوش ہے اے معبود نہیں میری حرکت اور نہیں طاقت مگر جو تیری قدرت سے ملتی ہے میں بچ نہیں سکتادنیا کی

فَأَسْأَ لُکَ بِبَلاغَةِ حِکْمَتِکَ، وَنَفاذِ مَشِیئَتِکَ، أَنْ لاَ تَجْعَلَنِی لِغَیْرِجُودِکَ مُتَعَرِّضاً، وَلاَ

برائیوں سے مگرصرف تیری نگہداشت سے پس تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری گہری حکمت اور تیری پوری ہونے والی مرضی کے واسطے

تُصَیِّرَنِی لِلْفِتَنِ غَرَضاً، وَکُنْ لِی عَلَی الْأَعْداءِ ناصِراً، وَعَلَیٰ الْمَخازِی وَالْعُیُوبِ ساتِراً وَمِنَ

سے کہ مجھے اپنی بخشش کے سوا کسی طرف نہ جانے دے اور مجھے فتنوں کا ہدف نہ بننے دے اور دشمنوں کے مقابل میرا مددگار بن

الْبَلاءِ واقِیاً وَعَنِ الْمَعاصِی عاصِماً بِرَأْفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

میرے عیبوں اور رسوائیوں کی پردہ پوشی فرما مجھ سے مصیبتیں دور کر اور گناہوں سے بچائے رکھ اپنی رحمت و نوازش سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے