Thursday, August 12, 2010

نہج البلاغہ بطور مفسر قرآن

نہج البلاغہ بطور مفسر قرآن

سید تاجدار حسین زیدی

بے شک حضرت علی ـ مفسرین کے سردار اور بزرگترین مفسر ہیں ، آپ وحی کے پاک چشمہ سے سیراب ہوئے اور رسول کے قدم بہ قدم ہمراہ رہے ،آپ کی اس ہمراہی کو آپ نے اس طرح بیان کیا ہے''جب میں بچہ تھا تو آپ مجھے اپنے سامنے بٹھاتے اور اپنے سینے سے لگاتے اور اپنے بستر پر سلاتے ،اپنے جسم کو میرے جسم سے مس کرتے ، اور اپنی لطیف خوشبو کو سنگھاتے تھے۔اور کبھی کبھی کسی چیز کو چباکر مجھے کھلاتے تھے ...میں سفر و حضر میں ہمیشہ اسی طرح آپ کے ساتھ تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔آپ ہر روز اپنے اخلاق کا ایک نیا نمونہ پیش کرتے اور مجھے اس کی پیروی کا حکم دیتے۔ہر سال غار حرا میں خلوت کرتے اس وقت میرے علاوہ کوئی ان کو دیکھ نہیں سکتا تھا،اس وقت رسول اسلام اور حضرت خدیجہ کے علاوہ کسی گھر میں اسلام داخل نہیں ہوا تھا ،اور میں ان میں تیسرا مسلمان تھا۔نور وحی کو دیکھتاتھا اور بوئی رسالت کو محسوس کرتاتھا ۔جب آپ پر وحی نازل ہو ئی میں نے شیطان کی آواز کو سنا:میں نے پوچھا اے رسول خدا یہ کیسی آواز ہے آپ نے فرمایا یہ شیطان ہے ...اے علی تم وہ سنتے ہو جو میں سنتا ہوں اور وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھتاہوں ،مگر یہ کہ تم پیغمبر نہیں ہو لیکن میرے وزیر ہو راہ حق پر شہید ہوگے اور مومنوں کے امیر ہو''(١)

اس طرح سے علی ـاپنی جان و دل کو وحی کے آبشار میں دھلتے اورجان میں اتر جانے والے نغموں سے لطف اندوز ہوتے ۔اور زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی وحی اور رسالت کی آغوش میں زندگی بسر کی ۔اس طرح کے آپ فرماتے تھے : جو کچھ پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو میرے پاس تمام آیات الٰہی کا علم ہے کہ کب اور کہاںنازل ہوئی،بلندیوں پر یا نشیب میں رات میں یا دن میں (٢)

اور فرماتے ہیں:خدا کی قسم میں تمام آیات کا جاننے والا ہوں کہ کہا اور کب نازل ہوئیں ۔خدا نے مجھے سمجھنے والا دل اور بولنے والی زبان دی ہے

اور فرماتے ہیں:تمام آیات الٰہی کو رسول پر عرضہ کی اور پیغمبر (صلی الله علیه و آله وسلم) نے ان کے معانی کو مجھے تعلیم فرمایا(٣)

امام علی کی علمی بلندی اور عظمت تمام صحابہ پر روز روشن کی طرح واضح تھی

قرآن امام علی کی نظر میں :

امام علی کی قرآن توصیف تبیین اور توضیح دل کو چھو لینے والی ہے کبھی کبھی کلام علی ، قرآن کی عظمت اور اس کے راز و رموز سے پردہ اٹھا نے میں اس قدر بلندی پر پہنچ جاتی ہے کہ انسان بلا اختیا اس کے سامنے سر جھکانے کو مجبور ہو جاتاہے۔

قرآن امام علی کی نظر میں دلوں کی بہار ہے جس سے دل و جان کو طراوت بخشی جانی چاہئیے۔درد سے شفاہے کہ جس کی راہنمائی میں بدی ،اور بد بختی نفاق و کفر اور کج رفتاری کو صفحٔہ دل سے مٹا دینا چاہئیے آپ فرماتے ہیں:

تعلمو القرآن فانہ احسن الحدیث و تفقھو ا فیہ فانہ ربیع القلوب و استشفعوا بنورہ فانہ شفاء الصدور......(٤)

قرآن کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ یہ بہترین گفتار ہے،اس میں غور و فکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے اس کے نو ر سے ہدایت حاصل کرو کہ یہ دلوں کے لئے شفا بخش ہے۔

اور فرماتے ہیں:

واعلمواانہ لیس علی احد بعد القرآن من فاقہ ولا لا حد قل القرآن من غنی ۔فاستشفعو ہ من ادوائکم و استعینوا بہ علی لاوائکم فان فیہ شفاء من اکبر الداء :و ھو الکفرو النفاق و الغی و الضلال۔۔.(٥)

جان لو کہ جس کے پاس قرآن ہے اس کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ،اور بنا قرآن کے کوئی بے نیاز نہیں ہے،پس اپنے درد کی قرآن سے دوا کرو اور سختیوں میں اس سے مدد طلب کرو اس لئے کہ قرآن بہت بڑے امراض یعنی کفر،نفاق،تباہی و بربادی سے بچانے والا ہے۔

اس وقت جب زمانے میں عرب کے کلام کی طوطی بولتی تھی قرآن نئے اسلوب اور دل ربا انداز میں نازل ہوا اور سب کو تعریف کرنے پر مجبور کردیاامام علی ـاس محیر العقول خوبصورتی کے بارے میں فرماتے ہیں اور حق طلب اور حقائق الٰہی میں غو ر وفکر کرنے والے کو دعوت دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ قرآن لا محدود گہرائی اور لا متناہی دریاہے:

ان القرآن ظاہرہ انیق و باطنہ عمیق ، لا تفنی عجائبہ ولا تنقضی غرائبہ ولا تکشف الظلمات الا بہ

بے شک قرآن کا ظاہر خوبصورت اور باطن عمیق ہے اس کے عجائبات و غرائبات کی انتہا نہیں ہے اور تاریکیاں اس کے بنا ہٹائی نہیںجا سکتی

ان سب کو جاننے کے لئے ہم کو قرآن کے دامن میں پناہ لینا ہوگی ،اس سے تعلیم حاصل کرنی ہوگی ، اس کی نصیحتوں سے پند حاصل کرنا ہو گا،مشکلات اور گرفتاریوں میں اس سے مدد مانگنا ہوگی،اور اس سب کے لئے بصیرت و آگاہی کے ساتھ قرآن سے پوچھنا ہوگا اور اس سے جواب لینا ہوگا۔ جیسا کہ امام علی ـفرماتے ہیں:

ذلک القرآن فاستنطقوہ و لن ینطق....۔ (٦)

سیوطی لکھتاہے :خلفاء میں سب سے زیا دہ تفسیری روایا ت امام علی ـسے نقل ہوئی ہیں''اج ہمارے درمیان جو حدیثی اور تفسیری منابع ہیں وہ ، وہ سب نہیں ہیں جو امام علی نے بیان کیاہے بلکہ اس بحر عظیم کا ایک قطرہ ہے جو ہم تک پہنچ پا یا ہے۔ (٧)

امام محمد باقر ـامام علی ـسے نقل کرتے ہیں : روئے زمین پر عذاب الٰہی سے بچانے والی دو چیزیں ہیں ،ان میں سے ایک اٹھا لی گئی ،اس لئے دوسری سے تمسک اختیار کرو ،جو اٹھا لی گئی وہ رسول اکرم کی ذات گرامی ہے ،لیکن جو ہمارے درمیان ہے وہ استغار ہے ۔ خدا وند متعال فرماتاہے :

وَمَا کَانَ اﷲُ لِیُعَذِّبَہُمْ وََنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اﷲُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ (٨)

حالانکہ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر مِ آپ ان کے درمیان ہیں اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کرنے والے ہوجائیں(٩)

سید رضی فرماتے ہیں: یہ قرآن کی ایک بہترین تفسیر ہے اور قرآن کے ایک لطیف استنباط ہے کہ جب امام علی ـ سے اس آیت

''ِنَّ اﷲَ یَْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالِحْسَانِ''(١٠)

''بیشک اللہ عدل ,احسان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے''

کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواب دیا:

العدل الانصاف،والاحسان التفضل

عدل انصاف ہے اور احسان نیکی ہے ( ١١)

کلام امام علی کی ایک بہت بڑی خصوصیت کلام الٰہی سے ملا ہونا اور اس سے استنباط کرناہے ۔جیسے کہ آپ نے معاویہ سے جنگ کے لئے لشکر کو جمع کرنے کے بعد ایک بلند خطبہ ارشاد فرمایا اور ''...اے مسلمانوں معاویہ جیسے ظالم بیعت شکن اورظلم کی ترویج کرنے والے سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہو!اورمیں جو قرآن سے کہ رہا ہوں اس کو سنو اور اس سے نصیحت حاصل کرو،گہاہوں سے دوری اختیار کرو،خدانے تمہارے لئے دوسری امتوں کی سرگذشت میں عبرت رکھی ہے ''پھر آپ اس آیت کی تلاوت کرتے ہیں:

َلَمْ تَرَ ِلَی الْمَلَِ مِنْ بَنِی ِسْرَائِیلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَی ِذْ قَالُوا لِنَبِیٍّ لَہُمْ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اﷲِ قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ ِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمْ الْقِتَالُ َلاَّ تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا َلاَّ نُقَاتِلَ فِی سَبِیلِ اﷲِ وَقَدْ ُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وََبْنَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمْ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا ِلاَّ قَلِیلًا مِنْہُمْ وَاﷲُ عَلِیم بِالظَّالِمِینَ ۔وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ ِنَّ اﷲَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا قَالُوا َنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ َحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنْ الْمَالِ قَالَ ِنَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ مَنْ یَشَائُ وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم (١٢)

کیا تم نے موسی کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کونہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطے ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راسِ خدا میں جہاد کریں. نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہادواجب ہوجائے توتم جہاد نہ کرو. ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیوں کر جہاد نہ کریں گے جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوںسے الگ نکال باہر کردیا گیا ہے. اس کے بعد جب جہاد واجب کردیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہوگئے اور اللہ ظالمین کو خوب جانتا ہے

ان کے پیغمبر ۖنے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدار حکومت ہیں. نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لئے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحبِ علم بھی

اے لوگوں ان آیات میں تمہارے لئے عبرت ہے تا کہ تم جان لو کہ خدا نے خلافت و حکومت کو انبیاء کے بعد ان کے خاندان میں رکھاہے اور طالوت کو علم اور قدرت کے ذریعہ دوسروں پر برتری بخشی ہے ۔اب خوب غور کرو کہ کیا خدا نے بنی امیہ کو بنی ہاشم پر برتری دی ہے؟اور معاویہ علم و دانش اور قدرت میں مجھ پر فضیلت دی ہے ؟اے لوگو! تقویٰ اختیار کرو اور اس سے پہلے کہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جائو اس کی راہ میں جہاد کرو۔ (١٣)

یہ امام علی کے گہر بار کلام کے کچھ نمونہ تھے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے لیکن چونکہ امام علی کی فضیلت اور ان کے کلام کے حقائق و معارف کی بلندی کا احصاء کرنا جن و انس کے بس میں نہیں ہے لہٰذا ہم اس مقالہ میں امام علی کے ان کلام کو مختصر طور سے بیان کرنے کی کوشش کریں گے جو آپ نے نہج البلاغہ آپ نے قرآن اور اس کی تفسیر کے عنوان سے بیان فرمایا ہے اور جس کی تجلی اس عظیم الشان کتاب میں جگہ جگہ ہویدا ہے امیر المومنین نے اپنے خطبوں ، خطوط، اور حکمتوں میں قرآن کی عظمت،جامعیت،کمال،جاودانگی کے بارے میں بیان فرمایا ہے۔اور قرآن اوراس کی سنتوں پر توجہ اوران کے احکامات پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔

قرآن کی خصوصیت:

کلام حق:

کلام الٰہی ،قرآن تمہارے درمیان ایسا بولنے والا ہے جس کی زبان حق کہنے سے تھکتی نہیں ہے ،اور ہمیشہ حق کہتی ہے،اورا یسا گھر ہے کہ جس کے ارکان منہدم نہیں ہوتے ہیں،اور ایسا صاحب عزت ہے کہ جس کے ساتھی کبھی شکست نہیں کھاتے ہیں(١٤)

آشکار نوراور محکم رسی ہے:

تمہارے لئے ضروری ہے کہ قرآن پر عمل کرو کہ یہ اللہ کی محکم رسی ،آشکار نور،اور شفا بخش ہے کہ جو تشنگی کو ختم کر دیتاہے ،جو اس سے تمسک کرے اس کو بچانے والا اور جو اس سے متمسک ہوجائے اس کو نجات دینے والا ہے ،اس میں باطل کو راہ نہیں ہے کہ اس سے پلٹا دیا جائے ،تکرار اور آیات کی مسلسل سماعت اس کو رپرانا نہیں بناتی ہیں اور کان اس کو سننے سے تھکتے نہیں ہیں۔

جو قرآن سے بولے اس نے سچ کہا اور جو اس پر عمل کرے وہ کامیاب ہو گیا....(١٥)

قرآن ہدایت ہے :

جان لو!قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو دھوکہ نہیں دیتا،اور ایسا ہدایت کرنے والا ہے جو گمراہ نہیں کرتا،اور ایسا قائل ہے جو جھوٹ نہیں بولتا،کوئی بھی قرآن کا ہم نشین نہیں ہو ا مگر یہ کہ اس کے علم میں اضافہ اور دل کی تاریکی اور گمراہی نہیں کمی ہوئی ۔

جان لوکہ!قرآن کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہ جاتی اور بغیر قرآن کے کوئی بے نیاز نہیں ہے

پس اپنے دردوں کا قرآن سے علاج کرو اور سختیوںمیں اس سے مدد مانگو،کہ قرآن میں بہت بڑی بیماریوں کفر،نفاق،سرکشی،اور گمراہی کا علاج موجود ہے۔

پس قرآن کے ذریعہ سے اپنی خواہشوں کو خدا سے طلب کرو،اور قرآن کی دوستی سے خدا کی طرف آئو،اور قرآن کے ذریعہ سے خلق خدا سے کچھ طلب نہ کرواس لئے کہ خد ا سے قربت کے لئے قرآن سے اچھا کوئی وسیلہ نہیں ہے،آگاہ رہو!کہ قرآن کی شفاعت مقبول،اور اس کا کلام تصدیق شدہ ہے ۔قیامت میں قرآن جس کی شفاعت کرے وہ بخش دیا جائے گا،اور قرآن جس کی شکایت کرے محکوم ہے،قیامت کے دن آواز لگانے والا آواز لگائے گا۔

''جان لو!جس کے پاس جو بھی پونجی ہے اور جس نے جو بھی کاٹاہے اس کو قرآن پر تولا جائے گا''پس تم کو قرآن پر عمل کرنا چاہئیے ،قرآن کی پیروی کرو اور اس کے ذریعہ خدا کو پہچانو،قرآن سے نصیحت حاصل کرو اور اپنی راے و نظرکو قرآن پر عرضہ کرو ،اور اپنے مطلوبات کو قرآ ن کے ذریعہ سے نکاردو(١٦)

اہمیت قرآن

قرآن دلوں کی بہار:

جان لو! خدا وند عالم نے کسی شخص کو قرآن سے بہتر کوئی نصیحت نہیں فرمائی ہے ، کہ یہی خدا کی محکم رسی،اوراس کا امانتدار وسیلہ ہے ۔اس میں دلوں کی بہار کا سامان اور علم کے سرچشمہ ہیں دلوں کی بہار اور علم و حکمت کا چشمہ ہے ....(١٧)

دل کے لئے قرآن کے جیسی دوشنی نہیں ہو سکتی،خصوصاًاس معاشرہ میں جہاں دلوں کے مریض ،غافلین اور دھوکہ دینے والے رہتے ہوں...

قرآن بندوں پر خداکی حجت:

جان لو!قرآن امر کرنے والا بھی ہے اور روکنے والا بھی ، وہ خاموش بھی ہے اور گویا بھی ،اور وہ مخلوقات پر خدا کی حجت ہے ...(١٨)

دردوں کی شفا:

قرآن سے بات کر کے دیکھو،یہ خود نہیں بولے گا بلکہ میں تم کو اس کے معارف سے مطلع کروں گا۔ جان لوکہ!قرآن میں آئندہ کا علم....تمہارے دردوں کا سامان ....(١٩)

فرقان:

قرآن ایسا نو ر ہے جو مدھم نہیں ہو سکتا ،ایسا چراغ ہے جو بجھ نہیں سکتا۔وہ سمندر ہے جس کی تھاہ نہیں مل سکتی اور ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والا بھٹک نہیں سکتا ، ایسی شعاع ہے جس کی ضوتاریک نہیں ہو سکتی ،اور ایسا حق و باطل کا امتیاز ہے جس کا برہان کمزور نہیں ہو سکتا ،...اور ایسی شفا جس میں بیماری کا کوئی خوف نہیں ہے ،ایسی عزت ہے جس کے انصار پسپا نہیں ہو سکتے ہیں ، اور ایسا حق ہے جس کے اعوان بے یار و مددگار نہیں چھوڑے جا سکتے ہیں۔ (٢٠)

علوم کا دریا:

قرآن ایمان کا معدن و مرکز ، علم کا چشمہ اور سمندر عدالت کا باغ اور حوض، اسلام کا سنگ بنیاد اور اساس، حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے، یہ وہ سمندر ہے جسے پانی نکالنے والے ختم نہیں کر سکتے ہیں اور وہ چشمہ ہے جسے الچنے والے خشک نہیں کر سکتے ہیں۔وہ گھاٹ ہے جس پر وارد ہونے والے اس کا پانی کم نہیں کر سکتے ہیں،اور وہ منزل ہے جس کی راہ پر چلنے والے مسافر بھٹک نہیں سکتے ہیں،وہ نشان منزل ہے جو راہ گیروں کی نظروں سے اوجھجل نہیں ہو سکتاہے ......(٢١)

فیصلہ قرآن کی بنیاد پر ہو نہ کہ اشخاص پر:

یا رکھو !ہم نے افراد کو حکم نہیں بنایا تھا بلکہ قرآن کو حکم قرا ر دیا تھا

یہ قرآن وہ مکتوب ہے جو دو جلدون کے درمیان چھپا ہے ،لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ خود نہیں بولتاہے اور اسے ترجمان کی ضرورت ہے اور ترجمان افرادہی ہوتے ہیں اس قوم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم قرآن سے فیصلہ کرائیں تو ہم تو قرآن سے روگردونی کرنے والے نہیں تھے ۔

جبکہ خدا نے فرما دیا ہے کہ اپنے اختلافات کو خدا اور رسول کی طرف موڑ دو اور خدا کی طرف موڑنے کا مطلب اس کی کتاب سے فیصلہ کرانا ہی ہے اور رسول کی طرف موڑنے کا مقصد بھی سنت کا اتباع کرنا ہے اور یہ طے ہے کہ اگر کتاب خدا سے سچائی کے ساتھ فیصلہ لیا جائے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار ہم ہی ہیں اور اسی طرح سنت پیغمبر کے لئے سب سے اولیٰ و اقرب ہم ہی ہیں۔....(٢٢)

جامعیت قرآن :

قرآن میںتمہارے پہلے کی خبر ، تمہارے بعد کی پیشگوئی اور تمہارے درمیانی حالات کے احکام سب پائے جاتے ہیں(٢٣)

آیۂ ''انا للہ و انا الیہ راجعون'' کی تفسیر:

آپ نے ایک شخص کو کلمہ ''انا للہ و انا الیہ راجعون'' زبان پر جاری کرتے ہوئے سنا تو فرمایایہ جو ہم کہتے ہیں ''ہم سب خدا کے لئے ہیں''یہ بندگی کا اقرار ہے ۔اور جو ہم یہ کہتے ہیں ''ہم اسی کی طرف واپس جائیں گے'' یہ اپنے ختم ہو جانے کا اعتراف ہے(٢٤)

قرآن کو بھلا دینا:

ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگوں کے درمیان قرآن صرف نشانی کے طور پر اور اسلام سوائے نام کے باقی نہ رہ جائے گا۔ان کی مسجدیں آباد ہونگی لیکن ہدایت سے خالی ہونگی.....(٢٥)

ان چند نمونوں سے ہم کو اچھی طرح اندازہ ہوتاہے کہ اگر ہم کو قرآن کے بارے میں اور اس کے علوم ومعارف کا اندازہ لگانا ہے تو یا تو ہمیں خود قرآن سے پوچھنا ہوگا ''جو کہ خود زبان نہیں رکھتا ہے ''یا پھر اس در پر آنا ہوگا جہا ں قرآن نازل ہو ا اور اس زبان سے قرآنیا ت اور علوم قرآن کو اخذ کرنا ہو گا جو یہ کہے کہ سلونی سلونی قبل ان تفقدونی ، اور جس کو قرآن کے ہر اسرار و رموز کا علم ہو اور جو آیات کے مکان زمان اور شان نزول سے واقف ہو ۔اور ان سب کے لئے ہم کو در علی ـ پر آنا پڑے گا اور ان کے نظرسے ہم کو قرآن کو دیکھنا ہوگا اور ان کے کلام سے قرآن کی حقیقی تفسیر معلوم کرنی ہو گی جو حقیقی مفسر قرآن ہے ۔

اور آپ کے ارشادات و فرمودات کو حاصل کرنے کے لئے ہم کو اس کتاب کی طرف رجوع کرنا ہوگا کلام الٰہی تو نہیں لیکن لسان اللہ کے دہن مبارک سے نکلے ہو پاک کلام ہیں جو تحت کلام الخالق اور فوق کلام المخلوق ہے ۔

ہم زیر نظر مقالہ میں اس بات کی کوشش کریں کے کہ قارئیں کی خدمت میں تفسیر قرآن کو نہج البلاغہ کے تناظر میں پیش کریں

فلسفہ حج:

...وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ ِلَیْہِ سَبِیلًا وَمَنْ کَفَرَ فَِنَّ اﷲَ غَنِیّ عَنْ الْعَالَمِینَ (٢٦)

امام علی ـاس آیت کے پیش نظر فلسفہ حج کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

...و فرض علیکم حج بیتہ الحرام الذی قبلہ للانام

فرض حجہ و اوجب حقہ و کتب علیکم و فادتہ سبحابہ :''وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ ِلَیْہِ سَبِیلًا وَمَنْ کَفَرَ فَِنَّ اﷲَ غَنِیّ عَنْ الْعَالَمِینَ.''

خدا نے تم پر حج کو واجب قرار دیا و اپنے گھر کو لوگوں کے لئے قبلہ بنایا ۔ خدا نے لوگوں پر حج مقرر کیا تاکہ لوگ اس کی عظمت کے سامنے سر جھکائیں اور اس کی عزت و قدرت کا اعتراف کریں ۔اور اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو چنا ہے جنہوں نے اس کی آوازکو سنا اور اس پر لبیک کہا ،اور حق کی تصدیق کی ،اور وہاں پر قدم رکھا جہاں پیغمبروں نے قدم رکھا تھا اور ان فرشتوں کے ہمراہ ہوئے جو عرش الٰہی کا طواف کرتے ہیں اور اس فائدہ میں جس کا سرمایہ عبادت ہے بہت فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ اس کی مغفرت کو حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر پیشی کی ۔

خدا نے حج کو علامت اسلام قرار دیا ہے اور کعبہ کو پناہ ڈھونڈنے والو کے لئے پناہ گاہ اور حج کو فریضۂ واجب قرار دیا اور اس کے حق کو واجب کیا اور حج کو تم پر واجب کیا اور فرمایا ''اس میں کھلی ہوئی نشانیاں مقام ابراہیم ـہے اور جو اس میں داخل ہوجائے گا وہ محفوظ ہوجائے گا اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کافر ہوجائے تو خدا تمام عالمین سے بے نیاز ہے''(٢٧ )

نیک لوگوں کے صفات:

الَّذِینَ یُنْفِقُونَ فِی السَّرَّائِ وَالضَّرَّائِ وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنْ النَّاسِ وَاﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِین(٢٨)

جو راحت اور سختی ہر حال میں انفاق کرتے ہیں اور غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وقال ـ :لا یزھدنک فی المعروف من لا یشکرہ لک ، فقد یشکرک منم لا یستمتع علیہ بشئی منہ و قد تدرک من شکر الشاکر اکژمما اضاع الکافر'' وَاﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِین''(٢٩)

ان جملوں میں امیرالمومنین ـ نیک لوگوں کی بعض خصوصیات کو بیان فرما دہے ہیں:خبر دار کسی شکریہ ادا نہ کرنے والے کی نالائقی تمہیں کار خیر سے بد دل نہ بنا دے ۔ ہو سکتاہے کہ مہارا شکر یہ وہ ادا کر دے جس نے اس نعمت سے کوئی فائدہ بھی نہیں اٹھا یا ہے اور جس قدر کفران نعمت کرنے والے نے تمہارا حق ضایع کیا ہے اس شکر یہ ادا کرنے والے کے شکریہ سے برابر ہو جائے گا اور ویسے بھی اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتاہے۔

امیر المونین ـ کے اس کلام سے معلوم ہو تا ہے کہ اولاً تو انسان کو کار خیر میں کسی شکریہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئیے کیوں کہ یہ انتظار عمل کو مجروح کر دیتاہے جس کی طرف قرآن مجید نے اس طرح اشارہ کیا ہے ''لا نرید منکم جزاء ً ولا شکوراً''لیکن اگر اس کے بعد بھی انسان فطرت سے مجبور ہوکر فطری طور سے شکریہ کا خواہشمند ہوتاہے تو مولائے کائنات ـ نے اس کا بھی اشارہ دے دیا ہے کہ یہ کمی دوسرے افراد کی طرف سے پوری ہو جائے اور وہ تمہارے کارخیر کی قدر دانی کر کے شکریہ کی کمی کا تدارک کردیں۔

نعمتوں کے قطع ہونے کے اسباب:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا ۔ یُرْسِلْ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا۔ وَیُمْدِدْکُمْ بَِمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ َنْہَارًا .(٣٠)

اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے ۔وہ تم پر موسلا دھار پانی برسائے گا ۔ اور اموال و اولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا

امام علی ـ فرماتے ہیں:

ان اللہ یبتلی عبادہ عند الاعمال السینة بنقص الثمرات و حبس البرکات ، و اغلاق خزائن الخیرات ، لیتوب تائب و یقلع مقلع، و یتذکر متذکر ، و یزدجر مزدجر،و قد جعل اللہ سبحانہ الاستغفار سببا لدرور الرزق و رحمة الخلق فقال :''استغفروا ربکم انہ کا غفارا۔ یرسل السماء علیکم مدرارا۔ ویمددکم باموال و بنین ''رفرحم اللہ استقبل توبتہ ،و استقال خطیئتہ، و بادر منییتہ(٣١)

خدا نے اپنے بندوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجہ میں کو پھلوں اور درختوں کی کمی ،بارل کا نا ہونا،اور خیر و برکت کے دروازوں کو ان پر بند کر دیاہے، تاکہ توبہ کرنے والا توبہ کرے اور گناہگار گناہوں سے دور ہو جائے ،اور نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کر ے اور روکنے والا لوگوں کو نافرمانی کے راستوں پر جانے سے روک دے ۔اور فرمایا :خدا بخش دے اس کو جو توبہ کی طرف جائے اور اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرے ، اس سے پہلے کی اس کی موت آ جائے

اہل جہنم:

مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَر۔قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ (٣٢)

آخر تمہیں کس چیز نے جہنم میں پہنچادیا ہے ۔ وہ کہیں گے کہ ہم نماز گزار نہیں تھے

تعاھدوا امر الصلاة و حافظوا علیھا و استکثروا منھا ، فانھا کانت علی المومنین موقوتا۔ الا ''قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ '' مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَر'' تسمعون الی جواب اھل النار حین سئلوا

نماز کی پابندی کرو اور اس پر قائم رہو ، اور اس کو مستقل انجام دیتے رہو ،اور نماز کے ذریعہ خو د کو خدا سے نزدیک کرو، کہ نماز مومنین پر واجب ہے ،اور اس کو اس کے وقت پر انجام دو ، کیا تم اہل دوزخ کے اس جواب کو نہیں سنتے ہو کہ جب ان سے پو چھا گیا ''کس چیز نے تم کو جہنم میں ڈال دیا'' انہوں نے جواب دیا:''ہم اہل نما ز نہ تھے''اور نما ز سے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت سے پتہ اور گناہوں کو گناہ گار سے اس طرح دور کر دیتی ہے جس طرح کسی کے بندھن کو کھول دیا جائے ۔

اور رسول خدا نے نماز کو اس گرم پانی کے چشمہ سے تشبیہ دی ہے جو انسان کے پاس ہو اور فرمایا کہ اگر انسان دن و رات میں پانچ بار خود کو اس چشمہ سے دھوئے تو اس کے بدن پر کوئی میل نہ رہ جائے گا ۔اس کے حق کو واقعاً ان صاحبان ایمان نے پہچانا ہے جنھیں زینت متاع دنیا یا تجارت اور کاروبار کوئی شئے بھی یاد خدا اور نماز و زکات سے غافل نہیں بنا سکتی ۔

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم)اس نماز کے لئے اپنے کو زحمت نہیں ڈالتے تھے حالانکہ ان کو جنتکی بشارت دی چکی تھی اس لئے کہ پروردگار نے فرمادیا تھا کہ اپنے اہل کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو تو آپ اپنے اہل کو حکم بھی دیتے تھے اور خود بھی زحمت برداشت کرتے تھے۔ (٣٣)

انسان دھوکہ کھایا ہوا ہے:

یَاَیُّہَا الِْنسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیمِ (٣٤)

اے انسان تجھے رب کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں رکھا ہے

ادحض مسئول حجة و اقطع مغتر معذرة ، لقد ابرح جھالة بنفسہ ۔یا ایھا الانسان ، ما جرّاک علی ذنبک ، وما غرک بربک ، وما انسک بھلکة نفسک ؟!....ثم برق النجاة(٣٥)

دیکھو یہ انسان جس سے یہ سوال کیا گیا ہے وہ اپنی دلیل کے اعتبار سے کس قدر کمزرور ہے اور اپنے فریب خوردہ ہونے کے اعتبار سے کس قدر ناقص معذرت کا حامل ہے۔ یقینا اس نے اپنے نفس کو جہالت کی سختیوں میں مبتلا کر دیا ہے

اے انسان ! تجھے کس چیز نے گناہوں کی جرأت دلائی ہے اور کس چیز نے پروردگار کے بارے میں دھوکہ میں رکھا ہے اور کس امر نے نفس کی ہلاکت پر بھی مطمئن کر دیا ہے ۔ کیا تیرے اس مرض کا کوئی علاج اور تیرے اس خواب کی کوئی بیداری نہیں ہے اور کیا اپنے نفس پر اتبا بھی رحم نہیں آتا جتنا دوسروں پر کرتا ہے کہ جب کبھی آفتاب کی حرارت میں کسی کو تپتا دیکھتاہے تو سایہ کر دیتاہے یا کسی کو رنج و دردمیں مبتلا دیکھتا ہے تو اس کے حال پر رونے لگتاہے تو آخر کس شئے نے تجھے خود اپنے مرض پر صبر دلا دیا ہے اور اپنی مصیبت پر سامان سکون فراہم کر دیا ہے اور اپنے نفس پر رونے سے روک دیا ہے جب کہ وہ تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ اور کیوں راتوں رات عذات الٰہی کے نازل ہو جانے کا تصور تجھے بیدار نہیں رکھتا ہے جب کہ تو اس کی نافرمانیوں کی بنا پر اس کے قہر و غلبہ کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔

اس مقام پر علامہ جودای فرماتے ہیں: حقیقت امر یہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف سے بالکل غفلت کا مجسمہ بن گیا ہے کہ دنیا میں کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پاتا اور اس کی داد رسی کے لئے تیا ر ہو جاتاہے اور آخرت مین پیش آنے والے خود اپنے مصائب کی طرف سے یکسر غافل ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی آفتاب محشر کے سایہ اور گرمی قیامت کی خنکی کا انتظام نہیں کرتا ہے ۔ بلکہ بعض اوقات اس کا مذاق بھی اڑاتاہے ۔

پھر امام علی ـ فرماتے ہیں ابھی غنیمت ہے کہ اپنے دل کی سستی کا عزم راسخ سے علاج کر لے اوراپنی آنکھوں میں غفلت کی نیند کا بیداری سے مداوا کر لے اللہ کا اطاعت گذار بن جا .......

میں سچ کہتاہوں کہ دنیا نے تجھے دھوکہ نہیں دیاہے تو نے دنیا سے دھوکہ کھایا ہے ،اس نے تو نصیحتوں کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے اور تجھے ہر چیز سے برابر آگاہ کر دیاہے ،اس نے جسم پر جن نازل ہونے والی بلائوں کا وعدہ کیا ہے اور قوت میں جس کمزوری کا خبر دی ہے ،اس میں وہ بالکل سچی اور وفائے عہد کرنے والی ہے ، نہ جھوٹ بولنے والی ہے اور نہ دھوکہ دینے والی ......

لہٰذا مناسب یہ ہے کہ ابھی سے ان چیزوں کو تلاش کر لو جن سے عذر قائم ہو سکے اور دلیل ثابت ہو سکے ۔جن دنیا میں تم کو نہیں رہنا ہے اس میں سے وہ لے لو جس کو تمہارے ساتھ رہنا ہے ۔ سفر کے لئے آمادہ ہو جائو نجات کی روشنی کی چمک دیکھ لو اور آمادگی کی سواریوں پر سامان بار کرلو''

امام علی ـ نے کس قرد صریح عبارت میں انسان کے دھوکہ کے بارے میں بتا دیا ہے اور ہم کو سکھا یا ہے کہ اس فانی دنیا کی لذات اور نعمات کو حقیقی نہ سمجھو بلکہ یہ گزر جانے والی ہیں لیکن انسان ہے کہ صرف اس دنیا کے چکر میں پڑا ہوا ہے ،اور خود کو دھوکہ دے رہا ہے کسی نہ کسی کمزرو دلیل کے ذریعہ۔

دنیا فانی ہے :

َلْہَاکُمْ التَّکَاثُرُ ۔حَتَّی زُرْتُمْ الْمَقَابِر(٣٦)

تمہیں باہمی مقابلہ کثرت مال و اولاد نے غافل بنادیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں سے ملاقات کرلی

یا لہ مراما ما ابعدہ ! و زورا ما اغفلہ ! و خطرا ما افظعہ ! لقد الستخلوا منھم ای مدکر .....ان للموت غمرات ھی افخع

زرادیکھو تو ان آباء و اجداد پر فخر کرنے والوں کا مقصد کس قدر بعید از عقل ہے اور یہ زیارت کرنے والے کس قدر غافل ہیں اور خطرہ بھی کس قدر عظیم ہے ۔یہ لو گ تمام ربرتوں سے خالی ہو گئے ہیں اور انہوں نے مردوں کو بہت دور سے لے لیا ہے ۔ آخر یہ کیا اپنے آباء و اجداد کے لاشوں پر فخر کر رہے ہیں یا مردوں کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ کر رہے ہیں ؟یا ان جسموں کو واپس لانا چاہتے ہیں جو روحوں سے خالی ہو چکے ہیں ۔انہیں تو فخر کے بجائے عبرت کا سامان ہو نا چاہئیے تھا...۔

یہ عرب کا دستور تھا کہ وہ اپنے قبیلہ کی تعداد میں اضافہ اور فخر و مباہات کے لئے ان افراد کو بھی شامل کر لیا کرتے تھے جو اس دنیا سے گذر چکے ہوتے تھے لیکن اسلام نے آنے کے بعد اس فخر و مباہات کے سلسلہ کو توڑ دیا اور ''پدرم سلطان بود'' کا نعرہ اسلام آنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ۔ اما م علی ـ بتا رہے ہیں کہ کا ش اس انسان کو اس قدر شعور ہوتا کہ آباء و اجداد کی بوسیدہ لاشیں یا قبریں باعث افتخار نہیں ہیں بلکہ باعث افتخار انسان کا اپنا کردار ہے اگر تمہارا اپنا کردار اچھا ہے اور اگر تہمارے اعمال اسلام کے احکامات کے مطابق ہیں تو تم کو افتخار کرنے کا حق ہے ورنہ قبریں اور لاشیں باعث عبرت ہیں باعث فخر نہیں اور خدا وند فرماتاہے ''انما اکرمکم عند اللہ اتقاکم'' یعنی اگر تم احکامات الٰہی پر عمل پیرا ہو تو تم محترم ہو ورنہ نہیں اسی لئے مولائے کائنات اپنی دعا میں فرماتے ہیں:

''خدایا! میری عزت کے لئے یہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ تو میرا رب ہے ۔اب اس کے بعد میرے لئے کسی شئے کی کوئی حقیقت نہیں ہے صرف التجا یہ ہے کہ جس طرح تو میری مرضی کا خدا ہے اسی طرح مجھے اپنی مرضی کا بندہ بنالے''

پھر آپ ان مردوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں...

''اب وہ قبر کی گہرائیوں میں ایسے جماد ہو گئے ہیں جن میں نمو نہیں ہے اور ایسے گم ہو گئے ہیں کے ڈھونڈے نہیں مل رہے ہیں ، نہ ہولناک مصائب کا در د انہیں خوفزدہ بنا سکتا ہے اور نہ بدلتے حالات انہیں رنجیدہ کر سکتے ہیں ۔نہ انہیں زلزلوں کی پرواہ ہے اورنہ گرج اور کڑک کی اطلاع ......''

علامہ جوادی اس موقع پر فرماتے ہیں یہ صورت حال کسی سکون اور اطمینان کا اشارہ نہیں ہے بلکہ در اصل انسان کی مدہوشی اور بد حواسی کا اظہار ہے کہ صاحب عقل و شعور بھی جمادات کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ صورت حال ہو گئی ہے کہ ادھر کے جملہ حالات سے بے خبر ہو گیا ہے لیکن ادھر کے حالات سے بے خبر نہیں ہے ، صبح و شام ارواح کے سامنے جہنم پیش کیا جاتا ہے اور بے عمل و بدکردار انسان ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے ۔

پھر امیر المومنین ـ انسان کو نصیحت کرتے ہو ئے ارشاد فرماتے ہیں''....اب اگر تم اپنی عقلوں سے ان کی تصویر کشی کرو یا تم سے غیب کے پردہ اٹھا

دئے جائیں اور تم انہیں اس عالم میں دیکھ لو کہ کیڑوں کی وجہ سے ان کی قوت سماعت ختم ہو چکی ہے اور وہ بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھومیں مٹی کا سرمہ لگا دیا گیا ہے اور وہ دھنس چکی ہیں اور زبانیں دہن کے اندر روانی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں اور دل سینوں کے اندر بیداری کے بعد سو چکے ہیں اور سراپا تسلیم ہیں ....''

امیر المومنین ـ کی تصویر کشی پر ایک لفظ کے بھی اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اور ابوتراب سے بہتر زمین کا نقشہ کون کھینچ سکتاہے ، بات صرف یہ ہے کہ انسان اس سنگین صرت حال کا اندازہ کرے اور اس تصویر کو اپنی نگاہ عقل و بصیرت میں مجسم بنائے تا کہ اسے اندازہ ہو کہ اس دنیا کی حیثیت اور اوقات کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔

آخر میں ہم پروردگا کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ ہم کو قرآن کا حامی اور اہل بیت (علیهم السلام) کا سچا پیرو بنائے (آمین )

حوالے:

(١)نہج البلاغہ خطبہ ١٩٢

(٢)انصاب الاشراف ،ج٢،ص٩٩

(٣)انصاب الاشراف ،ج٢،ص٩٩۔شواہد التنزیل ،ج١،ص٤٥۔بحار الانوار ،ج٤،ص١٥٧

(٤)نہج البلاغہ خطبہ ١١٠

(٥)نہج البلاغہ، خطبہ١٧٦، مصادر نہج البلاغہ، ج ٤، ص ١٨٣

(٦)نہج البلاغہ خطبہ ١٥٨

(٧)انساب الاشراف، ج ٢، ص ٢٩٩

(٨)سورہ انفال آیت٣٣

(٩)مجمع البیان ،ج٤،ص٥٣٩

(١٠)سورہ نحل آیت ٩٠

(١١)عیون الخبار ،ج٣،ص١٩

(١٢)سورہ بقرہ۔٢٤٦۔٢٤٧

(١٣)الارشاد ،ج١،ص٢٦٢۔الاحتجاج،ج١،ص٤٠٧

(١٤)نہج البلاغہ خطبہ ١٣٣

(١٥)نہج البلاغہ خطبہ ١٥٦

(١٦)نہج البلاغہ خطبہ ١٧٦

(١٧)نہج البلاغہ خطبہ ١٧٦

(١٨)نہج البلاغہ خطبہ ١٨٣

(١٩)نہج البلاغہ خطبہ ١٥٨

(٢٠)نہج البلاغہ خطبہ ١٩٨

(٢١)نہج البلاغہ خطبہ١٩٨

ٍ(٢٢)نہج البلاغہ خطبہ١٢٥

(٢٣)نہج البلاغہ حکمت ٣١٣

(٢٤)نہج البلاغہ حکمت ٩٩

(٢٥)نہج البلاغہ حکمت٣٩٦

(٢٦)سورہ آل عمران ٩٧

(٢٧)نہج البلاغہ خطبہ ١

(٢٨)سورہ آل عمران ١٣٤

(٢٩)نہج البلاغہ حکمت ٢٠٤

(٣٠)سورہ نوح ١٢۔١٠

(٣١)نہج البلاغہ خطبہ ١٣٤

(٣٢)سورہ مدثر ٤٢۔٤٣

(٣٣)نہج البلاغہ خطبہ ١٩٩

(٣٤)سورہ انفطار ٦

(٣٥)نہج البلاغہ خطبہ ٢٢٣

(٣٦)سورہ تکاثر ١۔٢

No comments: